نمرود اور اس کی قوم: عروج، تکبر اور عبرتناک زوال

 نمرود اور اس کی قوم: عروج، تکبر اور عبرتناک زوال



تاریخِ انسانی میں ایسے کئی بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی طاقت اور سلطنت کے نشے میں خود کو خدا کہلوانا شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک مشہور نام 
نمرود بن کنعان
 کا ہے، جو بابل (موجودہ عراق) کا ایک جابر اور متکبر حکمران تھا۔ نمرود کا دورِ حکومت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے وابستہ ہے، اور اس کا قصہ قرآنِ پاک اور دیگر تاریخی کتب میں عبرت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
نمرود کون تھا؟
نمرود کو دنیا کے ان چار بادشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی۔ مؤرخین کے مطابق، ان میں دو مومن تھے (حضرت سلیمانؑ اور ذوالقرنین) اور دو کافر (نمرود اور بخت نصر)۔ نمرود بابل کا بادشاہ تھا اور اس کی سلطنت بے پناہ دولت اور طاقت پر مبنی تھی۔ اس نے اپنی رعایا کو مجبور کیا کہ وہ اسے اپنا خدا مانیں
قومِ نمرود اور بت پرستی
نمرود کی قوم بت پرست تھی اور وہ ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے۔ نمرود نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور خود کو ان بتوں سے بھی بڑا قرار دے کر اپنی عبادت کا حکم دیا۔ اس قوم نے نمرود کی خدائی کو تسلیم کر لیا، کیونکہ وہ مادی طور پر بہت خوشحال تھے لیکن روحانی طور پر اندھیروں میں بھٹک رہے تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مناظرہ
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مبعوث کیا، تو آپؑ نے نمرود کو توحید کی دعوت دی۔ نمرود نے اس دعوت کو رد کر دیا اور آپؑ سے بحث شروع کر دی جس کا ذکر قرآنِ کریم میں کچھ اس طرح ہے:
  1. زندگی اور موت کا دعویٰ: نمرود نے کہا کہ میں بھی زندگی اور موت دے سکتا ہوں۔ اس نے ثبوت کے طور پر ایک بے گناہ کو قتل کر دیا اور ایک سزائے موت پانے والے قیدی کو رہا کر دیا۔
  2. سورج کا چیلنج: حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر تم سچے ہو تو اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔ یہ سن کر نمرود مبهوت (لاجواب) رہ گیا۔
آگ کا واقعہ
جب حضرت ابراہیمؑ نے ان کے بتوں کو توڑ دیا، تو نمرود اور اس کی قوم نے آپؑ کو عبرتناک سزا دینے کے لیے ایک عظیم آگ تیار کی۔ روایات کے مطابق، اس آگ کی حدت اتنی تھی کہ پرندے بھی اس کے اوپر سے نہیں گزر سکتے تھے۔ لیکن جب آپؑ کو آگ میں ڈالا گیا، تو اللہ کے حکم سے وہ آگ آپؑ کے لیے "گلزار" (ٹھنڈی اور سلامتی والی) بن گئی۔
نمرود کا عبرتناک انجام
نمرود کے تکبر کا انجام انتہائی حقیر طریقے سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر اور اس کے لشکر پر مچھروں کی فوج بھیج دی۔
  • لشکر کی تباہی: مچھروں نے نمرود کے لشکر کا گوشت کھا لیا اور صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں۔
  • نمرود کی موت: ایک لنگڑا مچھر نمرود کی ناک کے راستے اس کے دماغ میں داخل ہو گیا۔ اس مچھر کے کاٹنے کی تکلیف اتنی شدید تھی کہ نمرود کو سکون حاصل کرنے کے لیے اپنے سر پر جوتے اور ہتھوڑے مروانے پڑتے تھے۔ یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں ہلاک ہو گیا۔
سبق اور عبرت
نمرود کا قصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کتنی ہی طاقت حاصل کر لے، وہ اللہ کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ نے ایک معمولی سے مچھر کے ذریعے اتنے بڑے جابر بادشاہ کو ذلیل کر کے ختم کر دیا۔

Comments