- Get link
- X
- Other Apps
عنوان: ناگن شہزادی | اردو کہانی | پریوں کی داستان | شہزادی کی حکایت
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب زمین پر جادو سانس لیتا تھا اور درختوں کی شاخوں سے روشنی ٹپکتی تھی۔ برصغیر کے ایک سرسبز خطے میں، جو آج کے India اور Pakistan کے درمیان واقع پہاڑی سلسلوں کے قریب تھا، ایک پراسرار ریاست آباد تھی جس کا نام زرنگار تھا۔ زرنگار اپنی نیلگوں جھیلوں، سنہری محلات اور خوشحال رعایا کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھی۔ مگر اس ریاست کا سب سے بڑا راز شاہی محل کے نیچے بہنے والی وہ جادوئی سرنگ تھی جہاں ناگوں کی قدیم نسل بسی ہوئی تھی۔
زرنگار کے بادشاہ، شاہ ارسلان، ایک نیک دل مگر قدرے سخت مزاج حکمران تھے۔ ان کی اکلوتی بیٹی، شہزادی ماہ نور، حسن و عقل کا حسین امتزاج تھی۔ اس کی آنکھیں گہرے سبز زمرد کی مانند چمکتی تھیں اور اس کے لمبے سیاہ بال رات کی سیاہی کو مات دیتے تھے۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ شہزادی ماہ نور ایک عام انسان نہیں، بلکہ ناگنوں کی ملکہ کی بیٹی تھی۔
برسوں پہلے، جب شاہ ارسلان جوان تھے، انہوں نے جنگل میں ایک زخمی ناگن کی جان بچائی تھی۔ وہ ناگن دراصل ناگنوں کی ملکہ زہرہ تھی، جو انسان کا روپ دھار کر دنیا کا جائزہ لینے آئی تھی۔ شاہ ارسلان کی بہادری اور رحم دلی سے متاثر ہو کر ملکہ زہرہ نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو انسانوں کی دنیا میں امن کی نشانی بنا کر بھیجے گی۔ یوں ماہ نور کی پیدائش ہوئی — آدھی انسان، آدھی ناگن۔
ماہ نور کو بچپن ہی سے عجیب خواب آتے تھے۔ وہ خود کو ایک چمکتی ہوئی غار میں دیکھتی، جہاں دیواروں پر سبز روشنی رقص کر رہی ہوتی اور سینکڑوں ناگ اس کے گرد جھکے کھڑے ہوتے۔ جب وہ جاگتی تو اس کے ہاتھوں پر ہلکی سی سنہری لکیریں ابھری ہوتیں جو چند لمحوں میں غائب ہو جاتیں۔
وقت گزرتا گیا اور شہزادی جوانی کی دہلیز پر پہنچ گئی۔ ایک دن محل کے باغ میں چہل قدمی کرتے ہوئے اس کی ملاقات ایک پراسرار فقیر سے ہوئی۔ فقیر کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی۔ اس نے کہا،
"اے ناگن شہزادی، وقت آ گیا ہے کہ تم اپنی اصل پہچان لو۔"
ماہ نور چونک گئی۔ "میں تو انسان ہوں، شاہ ارسلان کی بیٹی!"
فقیر مسکرایا، "تم انسان بھی ہو اور ناگن بھی۔ تمہاری ماں زیرِ زمین ناگنوں کی ملکہ ہے، اور وہ خطرے میں ہے۔"
یہ کہہ کر فقیر غائب ہو گیا، جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
اسی رات چاند گرہن لگا۔ آسمان سرخ ہو گیا اور زمین ہلنے لگی۔ محل کے نیچے سرنگ کا دروازہ خود بخود کھل گیا۔ ایک زوردار سرسراہٹ سنائی دی اور ایک دیو ہیکل کالا ناگ نمودار ہوا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔
"میں کال ناگ ہوں!" اس نے گرجدار آواز میں کہا۔ "میں ناگنوں کی سلطنت پر قبضہ کر چکا ہوں۔ اگر تم نے خود کو میرے حوالے نہ کیا تو میں زرنگار کو تباہ کر دوں گا!"
شہزادی کے دل میں خوف کی لہر دوڑی، مگر اس کے اندر کہیں ایک طاقت جاگ اٹھی۔ اس کی آنکھیں سبز روشنی سے چمکنے لگیں اور اس کے بال ہوا میں لہرانے لگے۔ اس نے زمین پر قدم مارا تو اس کے ارد گرد سبز دائرہ بن گیا۔
"میں ناگن شہزادی ماہ نور ہوں!" اس کی آواز گونجی۔ "میں ظلم کے آگے نہیں جھکوں گی۔"
اچانک اس کے ہاتھ سنہری سانپوں میں بدل گئے جو کال ناگ کی طرف لپکے۔ دونوں کے درمیان زبردست جنگ چھڑ گئی۔ محل کے ستون لرزنے لگے، آسمان پر بجلی چمکنے لگی۔ رعایا خوفزدہ ہو کر دعائیں مانگنے لگی۔
جنگ کے دوران ماہ نور کو اپنی ماں کی آواز سنائی دی، "بیٹی، اپنی اصل طاقت کو پہچانو۔ تم صرف جسم نہیں، تم روح کی روشنی ہو۔"
یہ سنتے ہی شہزادی نے آنکھیں بند کیں اور اپنے دل میں موجود محبت اور امن کی طاقت کو محسوس کیا۔ اس کے جسم سے سبز اور سنہری روشنی کا سیلاب پھوٹ پڑا۔ کال ناگ چیخا اور اس کی طاقت کمزور پڑنے لگی۔
"نہیں! یہ ناممکن ہے!" وہ چلایا۔
ماہ نور نے پکارا، "نفرت ہمیشہ محبت سے ہارتی ہے!"
روشنی کی ایک تیز لہر اٹھی اور کال ناگ کو قید کر کے ایک شفاف پتھر میں بدل دیا۔ زمین پرسکون ہو گئی، چاند گرہن ختم ہوا اور آسمان صاف ہو گیا۔
اسی لمحے سرنگ سے ملکہ زہرہ نمودار ہوئیں۔ ان کا روپ آدھا انسان، آدھا ناگ تھا، مگر ان کی آنکھوں میں ممتا کی چمک تھی۔ انہوں نے ماہ نور کو گلے لگایا۔
"بیٹی، تم نے نہ صرف ہماری دنیا بلکہ انسانوں کی دنیا کو بھی بچا لیا۔ اب وقت ہے کہ دونوں سلطنتیں ایک ساتھ رہیں۔"
شاہ ارسلان یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے، مگر انہیں اپنی بیٹی پر فخر تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ناگنوں اور انسانوں کے درمیان امن کا معاہدہ ہوگا۔ زیرِ زمین سرنگ کو مقدس مقام قرار دیا گیا جہاں دونوں قومیں مل کر تہوار مناتیں۔
ماہ نور کو ناگنوں کی ملکہ کا تاج پہنایا گیا، مگر اس نے انسانوں کی شہزادی رہنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وہ دن میں محل میں رعایا کے مسائل حل کرتی اور رات کو زیرِ زمین سلطنت میں انصاف قائم رکھتی۔
وقت کے ساتھ زرنگار خوشحالی اور امن کی مثال بن گیا۔ لوگ کہتے تھے کہ جب بھی چاندنی رات میں جھیل کا پانی سبز چمکتا ہے تو سمجھ لو ناگن شہزادی اپنی رعایا کی حفاظت کے لیے جاگ رہی ہے۔
اور یوں ناگن شہزادی کی کہانی نسل در نسل سنائی جانے لگی — ایک ایسی شہزادی کی داستان جو دو دنیاؤں کے درمیان پل بنی، جس نے ثابت کیا کہ اصل طاقت خون میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی میں ہوتی ہے۔
سبق:
محبت، ہمت اور سچائی سے بڑی کوئی جادوئی طاقت نہیں۔ جب انسان اپنے اندر کی روشنی پہچان لے تو وہ ہر اندھیرے کو شکست دے سکتا ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment