حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء رضی اللہ عنہا پیدائش

 حضرت آدم علیہ السلام کی نہ ماں ہیں نہ باپ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹی سے بنایا ہے۔ چنانچہ

 روایت ہے کہ جب خداوند قدوس عزوجل نے آپ کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عزرائیل علیہ

 السلام کو حکم دیا کہ زمین سے ایک مٹھی مٹی لائیں۔ حکم خداوندی کے مطابق حضرت عزرائیل علیہ

 السلام نے آسمان سے اتر کر زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی تو پوری روئے زمین کی اوپری پرت چھلکے کے مانند اتر کر آپ کی مٹھی میں آگئی۔

جس میں ساٹھ رنگوں اور مختلف کیفیتوں والی مٹیاں تھیں یعنی سفید و سیاہ اور سرخ و زرد رنگوں

 والی اور نرم و سخت، شیریں و تلخ، نمکین و پھیکی وغیرہ کیفیتوں والی مٹیاں شامل تھی۔  پھر اس

 مٹی کو مختلف پانیوں سے گوندھنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ایک مدت کے بعد یہ چپکنے والی بن گئی۔

 پھر ایک مدت تک یہ گوندھی گئی تو کیچڑ کی طرح بو دار گارا بن گئی۔ پھر یہ خشک ہو کر کھنکھناتی اور بجتی ہوئی مٹی بن گئ

تخلیق آدم علیہ السلام

پھر اس مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بنا کر جنت کے دروازے پر رکھ دیا گیا۔ جس کو دیکھ دیکھ کر فرشتوں کی جماعت تعجب کرتی تھی۔ کیونکہ فرشتوں نے ایسی شکل و صورت کی کوئی مخلوق کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ پھر اللہ پاک نے اس پتلے میں روح کو داخل ہونے کا حکم فرمایا۔

چنانچہ روح داخل ہو کر جب آپ کے نتھنوں میں پہنچی تو آپ کو چھینک آئی اور جب روح زبان تک پہنچ گئی، تو آپ نے ”الحمدللہ” پڑھا اور اللہ پاک نے فرمایا ”یرحمک اللہ” یعنی اللہ تم پر رحمت فرمائے۔ اے ابو محمد (آدم) میں نے تم کو اپنی حمد ہی کے لئے بنایا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ پورے بدن میں روح پہنچ گئی اور آپ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے 

حضرت حواء رضی اللہ عنہا کی پیدائش

ب حضرت آدم علیہ السلام کو خداوند قدوس نے بہشت میں رہنے کا حکم دیا تو آپ جنت میں تنہائی کی وجہ سے کچھ ملول ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نیند کا غلبہ فرمایا اور آپ گہری نیند سو گئے تو نیند ہی کی حالت میں آپ کی بائیں پسلی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پیدا فرمادیا۔ جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل عورت آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔

آپ نے ان سے فرمایا کہ تم کون ہو؟ اور کس لئے یہاں آئی ہو؟ تو حضرت حواء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں آپ کی بیوی ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے پیدا فرمایا ہے تا کہ آپ کو مجھ سے انس اور سکون قلب حاصل ہو۔ اور مجھے آپ سے انسیت اور تسکین ملے اور ہم دونوں ایک دوسرے سے مل کر خوش رہیں اور پیار و محبت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور خداوند قدوس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں۔ 

خالق کل


دیکھ لو! ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرمادیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے مٹی سے پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں کا منہ بند فرمادیا کہ اے عورتو! اور مردو! تم کبھی بھی اپنے دل میں خیال نہ لانا کہ اگر ہم دونوں نہ ہوتے تو انسانوں کی جماعت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو!حضرت آدم علیہ السلام کے نہ باپ ہیں نہ ماں، بلکہ ہم نے ان کو مٹی سے پیدا فرمادیا۔ سبحان اللہ!سچ فرمایا اللہ جل جلالہ نے کہ


Comments